مواد پر جائیں

پاکستان کی فیملی کورٹس میں خلع دائر کرنے کی سادہ رہنمائی: بنیادیں، دفعہ 10 کا مصالحتی مرحلہ، حق مہر کی واپسی، درکار دستاویزات اور لاہور میں خلع کا دورانیہ۔

اونی آستین میں بچے کا ننھا ہاتھ، جسے ایک بڑے کے ہاتھوں نے نرمی سے تھام رکھا ہے
اس صفحے پر
  1. خلع کیا ہے اور طلاق سے کیسے مختلف ہے
  2. پاکستان میں خلع کی بنیادیں
  3. کہاں دائر کریں: فیملی کورٹ کا دائرۂ اختیار
  4. خلع کا طریقۂ کار مرحلہ وار
  5. درکار دستاویزات
  6. لاہور میں خلع میں کتنا وقت لگتا ہے: دورانیہ اور اخراجات
  7. خلع کے مقدمات میں عام غلطیاں
  8. وکیل سے کب بات کریں

اگر آپ پاکستان میں رہنے والی ایسی خاتون ہیں جس کی شادی کاغذات کے سوا ہر لحاظ سے ختم ہو چکی ہے، اور شوہر طلاق دینے پر آمادہ نہیں، تو خلع وہ راستہ ہے جو قانون آپ کو دیتا ہے۔ اس رہنما تحریر میں بتایا گیا ہے کہ خلع کیا ہے، کہاں اور کیسے دائر ہوتی ہے، فیملی کورٹ آپ سے کیا پوچھے گی، اور ڈگری کے بعد کیا توقع رکھنی چاہیے۔ یہ تحریر بیویوں کے لیے لکھی گئی ہے، اور ان والدین اور بھائیوں کے لیے بھی جو اکثر ان کی طرف سے فائل سنبھالتے ہیں۔

خلع کیا ہے اور طلاق سے کیسے مختلف ہے

خلع بیوی کی درخواست پر مسلم نکاح کی تنسیخ ہے جو فیملی کورٹ منظور کرتی ہے۔ طلاق شوہر کا یک طرفہ اعلان ہے، جس کا نوٹس اسے مسلم عائلی قوانین آرڈیننس 1961ء کی دفعہ 7 کے تحت یونین کونسل کو دینا ہوتا ہے۔ بیوی کے پاس اعلان کا ایسا کوئی اختیار نہیں۔ اس کے بجائے وہ عدالت سے نکاح ختم کرنے کی استدعا کرتی ہے، اور اس کے عوض وصول کیا ہوا حق مہر مکمل یا جزوی طور پر واپس کرتی ہے۔

خلع تنسیخِ نکاح مسلمین ایکٹ 1939ء کے تحت کسی مخصوص بنیاد پر تنسیخ سے بھی مختلف ہے، جس میں بیوی کوئی متعین بنیاد ثابت کرتی ہے: چار سال کی غیر حاضری، دو سال تک نان نفقہ نہ دینا، ظلم و ستم، شوہر کی سات سال یا اس سے زائد کی قید، نامردی، یا پاگل پن۔ ان بنیادوں پر حق مہر واپس نہیں کیا جاتا۔ عملاً بہت سے دعووں میں دونوں باتیں لکھی جاتی ہیں: بنیادی طور پر مخصوص بنیادیں، اور متبادل کے طور پر خلع۔

راستہکون شروع کرتا ہےفورمحق مہر
طلاقشوہریونین کونسل کو نوٹس (دفعہ 7، آرڈیننس 1961ء)بیوی کا حق مہر اس کے پاس رہتا ہے
خلعبیویفیملی کورٹ میں دعویٰعدالت مکمل یا جزوی مہر کی واپسی کا حکم دے سکتی ہے
مخصوص بنیادوں پر تنسیخبیوی1939ء کے ایکٹ کے تحت دعویٰبیوی کا حق مہر اس کے پاس رہتا ہے

عدالت یہ نہیں پوچھتی کہ آپ کا شوہر خلع پر راضی ہے یا نہیں۔ وہ یہ پوچھتی ہے کہ کیا آپ اللہ کی مقرر کردہ حدود کے اندر اس کے ساتھ رہ سکتی ہیں، اور اس بارے میں آپ کی بات پر اعتبار کرتی ہے۔

پاکستان میں خلع کی بنیادیں

خلع کی بنیاد بیوی کی پختہ نفرت ہے: یہ کہ وہ اللہ کی مقرر کردہ حدود کے اندر شوہر کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔ عدالتیں اس سے بدسلوکی ثابت کرنے کا تقاضا نہیں کرتیں۔ دعوے میں یہ واضح بیان کافی ہے کہ شادی ناکام ہو چکی ہے، بیوی کے دل میں شوہر کے لیے نفرت اور بیزاری پیدا ہو چکی ہے، اور مصالحت ممکن نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ بات ہر مرحلے پر، بشمول مصالحتی سماعت کے، واضح اور یکساں انداز میں کہی جائے۔

آپ پھر بھی حقائق بیان کر سکتی ہیں، جیسے نان نفقہ نہ دینا، تشدد، اجازت کے بغیر دوسری شادی، یا نشے کی عادت، کیونکہ یہ نان نفقہ اور حق مہر کے متعلقہ دعووں کو تقویت دیتے ہیں اور قبل از ٹرائل مرحلے پر عدالت کی مدد کرتے ہیں۔ وکیل دعویٰ اس طرح تحریر کرے گا کہ خلع کا مطالبہ ان میں سے کسی بات کے ثابت ہونے پر منحصر نہ ہو۔

کہاں دائر کریں: فیملی کورٹ کا دائرۂ اختیار

تنسیخِ نکاح کا دعویٰ اس ضلع کی فیملی کورٹ میں دائر ہوتا ہے جہاں بیوی رہائش پذیر ہو۔ یہ فیملی کورٹس رولز 1965ء کے تحت ایک سوچا سمجھا تحفظ ہے۔ جو بیوی لاہور میں اپنے والدین کے گھر واپس آ چکی ہو، وہ لاہور میں دعویٰ دائر کر سکتی ہے چاہے نکاح کہیں اور ہوا ہو اور شوہر کہیں اور رہتا ہو۔ لاہور میں متعدد فیملی کورٹس ہیں، اور سینئر جج دعویٰ ان میں سے کسی ایک کے سپرد کرتا ہے۔ بیرونِ ملک مقیم بیوی کسی قریبی رشتہ دار کے حق میں خصوصی مختار نامہ، جو اس ملک میں پاکستانی سفارت خانے سے تصدیق شدہ ہو، کے ذریعے دعویٰ دائر کر سکتی ہے۔

خلع کا طریقۂ کار مرحلہ وار

  1. وکیل مقرر کریں اور دعویٰ تیار کرائیں

    دعوے میں نکاح، نکاح نامے میں مقرر حق مہر، شادی کی ناکامی کے حقائق اور تنسیخ کی استدعا لکھی جاتی ہے۔ فیملی کورٹس ایکٹ 1964ء کے تحت آپ غیر ادا شدہ حق مہر، گزشتہ اور آئندہ نان نفقہ، جہیز کے سامان کی واپسی اور بچوں کی حضانت کے دعوے اسی مقدمے میں شامل کر سکتی ہیں۔ شروع ہی میں ایسا کرنے سے مہینوں کی بچت ہوتی ہے۔

  2. دعویٰ دائر کریں

    دعویٰ لاہور کی فیملی کورٹ میں آپ کے شناختی کارڈ، نکاح نامے اور معاون دستاویزات کے ساتھ دائر کیا جاتا ہے۔ خاندانی مقدمات پر کورٹ فیس برائے نام ہوتی ہے۔

  3. شوہر پر سمن کی تعمیل

    عدالت عموماً دو سے تین ہفتے بعد کی تاریخ کے لیے سمن جاری کرتی ہے۔ اگر شوہر تعمیل سے بچتا ہے تو عدالت اخبار میں اشتہار اور اس کے آخری معلوم پتے پر نوٹس چسپاں کرنے کے ذریعے متبادل تعمیل کا حکم دے سکتی ہے۔ اس کے بعد مقدمہ اس کی غیر موجودگی میں (یک طرفہ) چلتا ہے۔

  4. جوابِ دعویٰ اور دفعہ 10 کے تحت مصالحت

    شوہر اپنا جوابِ دعویٰ داخل کرتا ہے۔ پھر عدالت فیملی کورٹس ایکٹ کی دفعہ 10 کے تحت قبل از ٹرائل سماعت کرتی ہے اور مصالحت کی کوشش کرتی ہے۔ خلع کے دعوے میں اگر اس مرحلے پر مصالحت ناکام ہو جائے تو عدالت خلع کے مطالبے پر شہادت ریکارڈ کیے بغیر تنسیخ کی ڈگری دینے کی پابند ہے۔

  5. خلع کی ڈگری اور حق مہر کے بارے میں حکم

    ڈگری خلع کی بنیاد پر نکاح ختم کر دیتی ہے۔ پنجاب میں دفعہ 10 میں 2015ء کی ترمیم کے بعد عدالت بیوی کو ہدایت کر سکتی ہے کہ وہ اپنے مؤجل مہر کا نصف تک، یا تسلیم شدہ معجل مہر کا ایک چوتھائی تک، شوہر کو واپس کرے۔ نان نفقہ یا جہیز کے سامان کے متنازع دعوے اسی مقدمے میں ٹرائل تک جاری رہتے ہیں۔

  6. یونین کونسل اور مؤثر ہونے کا سرٹیفکیٹ

    فیملی کورٹ ڈگری کی مصدقہ نقل یونین کونسل کے چیئرمین کو بھیجتی ہے، جو اس پر یوں کارروائی کرتا ہے جیسے مسلم عائلی قوانین آرڈیننس کے تحت طلاق کا نوٹس موصول ہوا ہو۔ تنسیخ موصولی سے 90 دن گزرنے پر مؤثر ہوتی ہے اور یونین کونسل سرٹیفکیٹ جاری کرتی ہے۔ عدت اسی مدت میں گزرتی ہے۔

درکار دستاویزات

  • آپ کا شناختی کارڈ، اور اگر معلوم ہو تو شوہر کا شناختی کارڈ نمبر
  • نکاح نامہ، اور اگر جاری ہوا ہو تو نادرا کا نکاح رجسٹریشن سرٹیفکیٹ
  • اگر حضانت یا نان نفقہ کا دعویٰ ہو تو بچوں کے بے فارم یا پیدائشی سرٹیفکیٹ
  • ادا شدہ یا غیر ادا شدہ مہر کا ثبوت: نکاح نامے کے کالم 13 تا 16، رسیدیں، زیورات کی فہرست
  • شادی کی ناکامی کا کوئی بھی ثبوت: پیغامات، طبی رپورٹیں، پولیس کو دی گئی درخواستیں، تصاویر
  • اگر جہیز کے سامان کی واپسی کا دعویٰ ہو تو اس کی فہرست تخمینی قیمتوں کے ساتھ
  • اگر آپ بیرونِ ملک سے دائر کر رہی ہیں تو پاکستانی سفارت خانے سے تصدیق شدہ خصوصی مختار نامہ

لاہور میں خلع میں کتنا وقت لگتا ہے: دورانیہ اور اخراجات

فیملی کورٹس ایکٹ کی دفعہ 12-اے عدالت کو ہدایت کرتی ہے کہ خاندانی مقدمے کا فیصلہ چھ ماہ کے اندر کرے۔ لاہور میں اگر شوہر پر پہلی یا دوسری کوشش میں سمن تعمیل ہو جائے تو دفعہ 10 کے مرحلے پر خلع کی ڈگری عموماً دائر کرنے کے تین سے چھ ماہ کے اندر مل جاتی ہے۔ جہاں شوہر تعمیل سے بچے اور اشتہار کی ضرورت پڑے، وہاں ایک سے دو ماہ مزید لگ سکتے ہیں۔ ڈگری کے بعد یونین کونسل کی 90 دن کی مدت چلتی ہے اور پھر سرٹیفکیٹ جاری ہوتا ہے، اور یہی سرٹیفکیٹ نادرا اور دیگر ادارے نکاح کے خاتمے کے ثبوت کے طور پر قبول کرتے ہیں۔

اخراجات فورم اور مرحلے پر منحصر ہوتے ہیں۔ جو خلع مصالحتی سماعت پر ختم ہو جائے اس میں اس مقدمے کی نسبت کم وقت اور خرچ آتا ہے جس میں نان نفقہ اور جہیز کے متنازع دعوے شہادت تک جائیں۔ پیشہ ورانہ فیس کام شروع ہونے سے پہلے تحریری طور پر طے کی جاتی ہے۔

خلع کے مقدمات میں عام غلطیاں

  • رہائش کے بجائے سہولت کی بنیاد پر ضلع کا انتخاب، اور پھر دائرۂ اختیار کے اعتراض میں مہینوں کا ضیاع۔
  • معاملہ سادہ رکھنے کے لیے حق مہر، نان نفقہ اور جہیز کے دعوے چھوڑ دینا، اور بعد میں دوسرا دعویٰ دائر کرنا پڑنا۔
  • مصالحتی سماعت پر ڈگمگانا۔ اگر آپ جج سے کہیں کہ شاید صلح ہو جائے تو ڈگری مؤخر ہو جاتی ہے۔
  • عدالت میں ریکارڈ کرائے بغیر نجی سمجھوتہ قبول کر لینا، جس کی کوئی بات قابلِ نفاذ نہیں ہوتی۔
  • ڈگری کو انجام سمجھ لینا۔ جب تک یونین کونسل کا سرٹیفکیٹ جاری نہ ہو، نادرا کے لحاظ سے تنسیخ مکمل نہیں ہوتی۔
  • 90 دن کی مدت اور عدت پوری ہونے سے پہلے دوسری شادی کر لینا۔

وکیل سے کب بات کریں

دعویٰ دائر کرنے سے پہلے وکیل سے بات کریں، پہلی سماعت کے بعد نہیں۔ دعوے میں نفرت کے الفاظ، دعووں کی یکجائی اور ضلع کا انتخاب یہ طے کرتے ہیں کہ مقدمہ کتنی جلدی ختم ہوگا۔ اگر آپ کو شوہر کی طرف سے بحالیِ حقوقِ زوجیت کے دعوے یا حضانت کی درخواست کا بھی سامنا ہے تو دونوں کو ایک ساتھ سنبھالنا ضروری ہے۔ ہماری خاندانی قوانین کی پریکٹس کے بارے میں مزید پڑھیں، یا اپنی فائل پر رازداری سے بات کرنے کے لیے مشاورت کا وقت لیں۔

عام سوالات

کلائنٹس کے سوالات

جی ہاں۔ خلع کا فیصلہ فیملی کورٹ کرتی ہے، شوہر نہیں۔ اگر فیملی کورٹس ایکٹ کی دفعہ 10 کے تحت مصالحت ناکام ہو جائے تو عدالت ڈگری جاری کرتی ہے، چاہے شوہر اعتراض کرے یا بالکل پیش ہی نہ ہو۔

یہ سوال واٹس ایپ پر پوچھیں

عموماً کچھ یا پورا۔ عدالت نکاح کے عوض وصول کیے گئے حق مہر کی واپسی کا حکم دے سکتی ہے؛ پنجاب میں یہ حکم معجل یا مؤجل مہر کے ایک حصے تک محدود ہے۔ نان نفقہ، جہیز کا سامان اور تحائف الگ ہیں اور وہ واپس نہیں کیے جاتے۔

یہ سوال واٹس ایپ پر پوچھیں

اگر شوہر کو بروقت سمن تعمیل ہو جائے تو دائر کرنے کے تین سے چھ ماہ کے اندر عموماً ڈگری مل جاتی ہے۔ اس کے بعد یونین کونسل کی 90 دن کی مدت چلتی ہے اور پھر مؤثر ہونے کا سرٹیفکیٹ جاری ہوتا ہے۔

یہ سوال واٹس ایپ پر پوچھیں

مصنف کے بارے میں

U

عمیر احمد قیصرانی

بانی پارٹنر · ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

لاہور میں دیوانی، خاندانی، ریونیو، ٹیکس اور کسٹمز کے وکیل

متعلقہ رہنمائی

سب دیکھیں

رہنما تحریر ایک حد تک ہی مدد کر سکتی ہے۔ اپنے معاملے کی مختصر تفصیل بھیجیں، ایک وکیل حقیقت پسندانہ اگلا قدم بتائے گا۔

+92 3110220257·براہِ کرم پہلے پیغام میں مقدمے کے کاغذات نہ بھیجیں۔ ہم بتائیں گے کہ کیا لانا ہے۔